subscribe to the RSS Feed

Wednesday, February 8, 2012

میرے نزدیک این ای ڈی کیا ہے: آزاد سوچ کی راہ میں پہلی منزل

Posted by Cemendtaur on August 20, 2007

 

Cemendtaurکراچی میں بلا کی گرمی پڑتی ہے اور ایک عرصے سے وہاں کا موسم ایسا ہی گرم ہے۔ مگر میں جب جامعہ این ای ڈ ی میں گزارے جانے والے وقت کو یاد کروں تو نہ جانے کیوں مجھے صرف سہانا موسم یاد آتا ہے۔

بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح جامعہ این ای ڈی میں داخلے کا میرا فیصلہ بہت زیادہ شعوری نہ تھا۔ میں این ای ڈ ی اس لیے نہیں پہنچا کہ میں انجینیر بننا چاہتا تھا۔ میں تو بس بھیڑ چال میں وہاں پہنچ گیا۔ اگر میں کسی مغربی ملک میں پلا بڑھا ہوتا تو شاید کسی جامعہ سےعمرانیات یا ادب میں سند حاصل کی ہوتی۔ پاکستان میں پرورش پاتے جامعہ این ای ڈ ی اس لیے پہنچا کیونکہ میرے ساتھ کے ذہین لوگ اس طرف جا رہے تھے۔ اور این ای ڈ ی میں مجھے اپنی طرح کے لوگ ملے۔ کہنے کو تووہ سب انجینئیرنگ پڑھ رہے تھے مگر ان سب کے اندر الگ الگ طرح کی آگ بھری تھی۔

کچھ تھے کہ ان کی روح موسیقی سے پر تھی اور وہ اس موسیقی کو اپنے اندر سے نکال کر دنیا کےسامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔ اور کچھ تھے کہ انہیں زندگی کے بہت سے رنگوں سے میل کھانا آتا تھا اور وہ اداکاری کے ذریعے اپنے اس فن کو دینا کے سامنے لانا چاہتے تھے۔ اور کچھ تھے کہ وہ معاشرتی تبدیلیاں چاہتے تھے اور مضبوط سیاسی نظریات رکھتے تھے۔ اور کچھ تھے کہ وہ لکھنا چاہتے تھے۔ اور کچھ تھے کہ وہ کسی کھیل میں ماہر تھے اور اپنی اس مہارت کا مظاہرہ زمانے کے سامنے کرنا چاہتے تھے۔اور کچھ تھے کہ وہ روشنی، زاویے، اور تناسب کا بہترین شعور رکھتے تھے اور مصوری کرنا چاہتے تھے۔ اور کچھ تھے کہ وہ ایسی ایجادات کرنا چاہتے تھے جس سے لوگوں کی زندگیاں سہل ہوجائیں۔ اور کچھ تھےکہ اندرسے بے چین تھے اور انہیں وہ راستہ سجھائی نہ دیتا تھا کہ جس پہ چل کر وہ قرار پا لیں۔ اور کچھ تھے کہ وہ کچھ نہ کرنا چاہتے تھے بس ہر ایک دن جینے پہ قانع تھے۔

اور یہ سب لوگ کراچی کے مختلف علاقوں سے، پوائنٹ سے، نجی بسوں سے، اور دوسرے ذرائع سے ہر روز ایک جگہ جمع ہو جاتے تھے اور ان کے اس طرح جمع ہوجانے کا نام ہی جامعہ این ای ڈی تھا۔

جامعہ این ای ڈ ی کے ان بچوں کو کچھ تو اپنے اساتذہ سے ملتا تھا مگر اس سے کہیں زیادہ اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور معاملہ کرنے سے، ایک دوسرے کی باتیں سننے،اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے سے ملتا تھا۔

جامعہ این ای ڈ ی نے مجھے بنایا ہے۔

اس بات کا یقینا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف این ای ڈ ی نے مجھے بنایا ہے۔ مجھے تو بہت سے اداروں، بہت سے لوگوں نے بنایا ہے اور اب تک بنا رہے ہیں۔ ہر دن مجھے ایک نئے انداز سے تشکیل دیتا ہے اور میں ایک نیا شخص بن جاتا ہوں۔

جامعہ این ای ڈ ی نے مجھے بنایا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ عمر کے اس حصے میں جہاں ضرورت تھی کہ سوچنے کے لیے کھلی جگہ ملے اور ایسے لوگ ملیں جو فکر کے مختلف راستوں پہ چلنے کا فن جانتے ہوں، این ای ڈی نے مجھے ایسا ہی سایہ دار، شفیق ماحول فراہم کیا۔ میرے لیے جامعہ این ای ڈ ی آزاد سوچ کی راہ میں پائوں دھرنے کی پہلی جگہ تھی۔

علی حسن سمندطور

جون ۳، ۲۰۰۷

Comments

6 Responses to “میرے نزدیک این ای ڈی کیا ہے: آزاد سوچ کی راہ میں پہلی منزل”
  1. Shahran says:

    Cemendtaur Sahib,

    I am really delighted to see your first post on NED NAMA. Well as always your entry came with a bang. Urdu blogging.

  2. Riaz Haq says:

    Dear Ali Hasan and Sabahat,
    This came out beautifully in Urdu. I love it. In terms of formatting, can it be aligned right-justified?
    I’d like to see a lot more Urdu blogging.
    Riaz

  3. ہمت افزائی کا شکریہ۔
    نیازمند
    سمندطور

  4. iFaqeer says:

    I am working on the RTL stuff…I think our underlying Stylesheet is over-riding the settings we’re putting in–and we’re actually putting in two different tags to try and accomplish that.

  5. SafwanShah says:

    What a beautiful response to “What NED means to me?”

    You are so right when you say that the only climate we can remember is gentle and moderate. So touching is your response that it brings a feeling of warmth and certainly cheers my soul. Bravo. Encore.

    My own memories are not too different – i can hardly render them as lyrically as you have done my friend. I wont even try.

    To continue the spirit, , I will share my personal thoughts –

    In a strange way my life has come a full circle. Over 27 years ago, in the months before I got admission, NED was a dream, an aspiration, a destination. After selection, in July 1980, classes began and I felt like the proudest son of that school. Over two decades have passed since then – i am older, grayer and just as fortunate as ever. I can still fight moments of cynicism by remembering those days we spent at NED – they keep me sane, they bring a smile to my face and cheer my soul.

    So much so, that today, NED is again a dream, an aspiration and a destination. Whereas, a generation ago it was to selfishly absorb and assimilate every type of learning that NED offered, today it is to give that hope, freedom to dream and aspirations to the NEDians that are within and outside NED – the alumni.

    Onwards to NED.

  6. Now we need to do a profile of Safwan Shah. Do we have anyone here who can do the topic justice in a complete way? C?

Leave a comment, and if you'd like your own picture to show up next to your comments, go get a gravatar!

You must be logged in to post a comment.

home | top